6 مارچ 2026 - 23:22
میدان جنگ میں کامیابی کے عوامل

"قُلْنَا لَا تَخَفْ إِنَّكَ أَنتَ الْأَعْلَىٰ؛ ہم نے کہا ڈرو نہیں! بلاشبہ تم ہی ہو غالب آنے والے ہو۔" یہ صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک طاقت کے توازن کا حقیقت پسندانہ تجزیہ ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || کیا اب تک آپ نے "ایک آیت کے ساتھ جینے" کا مزہ چکھ لیا ہے؟ جب بہت سخت حالات میں، ایک آیت اچانک آپ کے دل میں اتر جاتی ہے اور تمام اضطرابات ہوا ہو جاتے ہیں۔ یا ایک تقدیر ساز دو راہے پر، قرآن میں سے ایک کلام، ایک روشنی بخش چراغ کی طرح، ایک روشن راستے آپ کے سامنے رکھ لیتا ہے؛ ایک آیت جو مزید کاغذ پر لکھی عبارت نہیں رہی بلکہ ایک مخلص دوست کی طرح، ایک حکیم مشیر کی مانند یا ایک محفوظ پناہ گاہ بن جاتی ہے۔ یہ تجربہ ایک اکسیر ہے جو روح کو ـ دنیا کے شور و غل کے بیچ ـ زندہ رکھتا ہے۔

"قُلْنَا لَا تَخَفْ إِنَّكَ أَنتَ الْأَعْلَىٰ؛ [1]

ہم نے [موسیٰ سے] کہا: ڈرنا مت، بلاشبہ تم ہی ہو غالب آنے والے ہو۔"

دشمن سے ہمارے خوف کی جڑ کیا ہے: اس کی طاقت یا ہمارے ایمان کی کمزوری؟

کوئی بھی تمہارا حریف نہیں ہے

گھبرانا نہیں، آپ کو غزہ کے بچوں کی پشت پناہی حاصل ہے جو آپ کے میزائل دیکھ کر کہتے ہیں: "اللّهمّ سَدّدْ رَمیَهُم؛ اے اللہ! ان کے داغے ہوئے ہتھیاروں کو نشانے پر بٹھا دے۔" ماؤں کی دعا، شہداء کے بچوں اور ماؤں ک دعائیں، سب آپ کے ساتھ ہیں؛ کوئی بھی آپ کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔

ڈرنا نہیں، تم برتر ہو

جس وقت دشمن اپنی طاقت اور قد و قامت کے بل بوتے پر خودنمائی کرتا ہے، جس وقت وہ اپنے تمام اوزاروں کو میز پر رکھتا ہے اور ہلڑبازی کرکے آپ کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کرتا ہے، وہ لمحہ جب آپ دل ہی دل میں کہتے ہیں کہ "کیا میں واقعی مقابلے کا لائق ہوں؟" جس وقت یہی مفلوج کن خوف آپ کا ارادہ توڑنے تک آگے بڑھ جاتا ہے، اللہ کو بھی آپ سے کچھ کہنا ہوتا ہے۔ نفسیاتی جنگ کے عروج پر، جس وقت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے جادوگروں کی تباہ کن نمائش دیکھ کر دل ہی دل میں گھبرا جاتے ہیں، آسمان سے ندا آتی ہے جو نہ صرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو، بلکہ تاریخ کے تمام مؤمنین کو، اپنی معرکوں میں، اطمینان اور طاقت دے دیتی ہے: "قُلْنَا لَا تَخَفْ إِنَّكَ أَنتَ الْأَعْلَىٰ؛ ہم نے [موسیٰ سے] کہا: ڈرنا مت، بلاشبہ تم ہی ہو غالب آنے والے ہو۔"

میدان جنگ میں کامیابی کے عوامل

برتری اور غلبے کی منطق، قرآن کی نگاہ میں

یہ محض ایک حوصلہ افزائی کا نعرہ نہیں ہے؛ یہ صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک طاقت کے توازن کا حقیقت پسندانہ تجزیہ ہے؛ لیکن کیسے؟

اللہ کی منطق میں، غلبہ اور برتری وسیع پیمانے پر تشہیری مہم اور جنگ وسائل کی مقدار پر نہیں پرکھا جاتا۔ سب سے پہلی چیز خوف پر غلبہ پانا ہے۔ دشمن کا سب سے بڑا ہتھیار آپ کے دل میں خوف اور گھبراہٹ ڈالنا ہے۔ جب آپ لامتناہی سرچشمے سے متصل ہیں، تو سب سے پہلا اور اہم ترین مورچے یعنی "خوف" کو فتح کر دیتے ہیں۔ جو ڈرتا نہیں ہے وہ پہلے ہی سے فاتح ہے۔ دوسرا ایمان ہے اس بات پر کہ آپ کے محدود وسائل اللہ کے ہاتھ میں لامحدود افادیت حاصل کر لیتے ہیں۔

موسیٰؑ کے پاس لکڑی کی لاٹھی تھی اور ساحروں و جادوگروں کے پاس رسیاں تھیں جو چونکا دیا کرتی تھیں، لیکن جب وہ لاٹھی اللہ کی طاقت سے متصل ہوئی، تو اس نے اس چونکا دینے والی پوری نمائش کو نگل لیا۔

ایک تزویر نہ کہ ایک نعرہ

یہ عقیدہ ـ تمام تر میدانوں میں ـ ایک تزویر (اسٹراٹیجی) ہے؛ وہ لڑکی جو غیر صحتمند ماحول سے مرعوب نہیں ہوتی اور پورے عزم و قوت سے اپنے حجاب کی حفاظت کرتی ہے، اور اسے اپنے تشخص، شناخت اور استقامت کا پرچم قرار دیتی ہے، اس سائنسدان تک جو دھمکی، لالچ اور پابندیوں سے مرعوب نہیں ہوتا اور اپنے ملک کی ترقی کے لئے ڈٹ کر کھڑا ہوجاتا ہے۔ یہ وہی تزویراتی فکر ہے جس کو "دشمن کے کھوکھلے غلبے سے خوفزدہ نہ ہونا" کہا جاتا ہے۔

موسیٰؑ کو دیا گیا یہ الٰہی وعدہ تاریخ کے اس خاص مرحلے تک محدود نہیں ہؤا ہے۔ رہبر شہید امام خامنہ ای (رضوان اللہ تعالیٰ نے اسی داستان کی یاددہانی کرائی اور اسے "آج" سے جوڑ کر فرمایا: "خدائے متعال فرماتا ہے: "قَالَ لَا تَخَافَا إِنَّنِي مَعَكُمَا أَسْمَعُ وَأَرَىٰ؛ [2] دیکھ لیجئے، کتنا عمدہ ہے یہ! میں تمہارے ساتھ ہوں، دیکھتا ہوں، سنتا ہوں، میں تمہارا حافظ و نگہبان ہوں، تمہارا خیال رکھتا ہوں۔" "بالکل یہی خطاب آج ملت ایران سے ہے۔"

اس کا مطلب یہ ہے کہ جو قوم اپنے راستے کی حقانیت اور اللہ کی معیت پر یقین رکھتی ہے، وہ دشمن کی طاقت کی نمائش کا یقین نہیں رکھتی اور پوری بہادری کے ساتھ عمل کرتی ہے۔ کیل کانٹے سے مسلح فوج کے سامنے محور مقاومت کی تاریخی فتوحات انہوں نے قلیل وسائل کے ساتھ اور "إِنَّكَ أَنتَ الْأَعْلَىٰ" پر یقین رکھتے ہوئے، دنیا میں رائج طاقت کے فارمولوں کو درہم برہم کر دیا ہے۔

جی ہاں! جس طرح کہ موسیٰ (علیہ السلام) اسی الٰہی وعدے کے سہارے، فرعون سے عبور کر گئے، ایرانی قوم بھی اسی وعدے کے سہارے تاریخ کی تمام تر دشوارگذار گھاٹیوں کو عبور کرے گی۔ 

آیت پر عمل، آیت کے ساتھ جینا

● جس وقت فریق مخالف مطالبات، دھمکیوں اور پابندیوں کی ایک طویل فہرست لے کر آپ کو مذاکرات کی دعوت دیتا ہے، اور 'جسمانی حرکات و سکنات' کی زبان سے، ایک قرض خواہ کی طرح، آپ کو پسپائی پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو اس آیت کی تلاوت کرو۔

● اگر آپ کمانڈر ہیں اور کمانڈ روم میں، سیٹلائٹ تصاویر کی مدد سے دشمن کے عظیم جنگی وسائل اور بڑی تعداد میں نفری کو دیکھتے ہیں، جو آپ کے زیر کمان فوج سے کئی گنا زیادہ ہیں، تو اس آیت کو یاد کریں۔

● اگر آپ سائنسدان ہیں، لیکن پورے مغرب نے ملک کی خدمت کی وجہ سے آپ پر پابندیاں لگائی ہیں، تو قرآن کریم کھول دو اور دیکھ لو کہ اللہ آپ کے ساتھ ہے: "لا تَخَف۔۔۔ ڈرنا مت۔"

● آپ اگر جج ہیں، اور ایک منصفانہ فیصلہ سنانے کی وجہ سے آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو دھمکیاں دی گئی ہیں، تو رات کے وقت، جب دباؤ انتہا تک پہنچتا ہے، سجادہ بچھا دیں، سجدے میں جائیں اور اللہ سے کہہ دیں: "اے اللہ تیرا انصاف ان لوگوں کی دھمکیوں سے برتر و بالاتر ہے۔ مجھے فیصلہ سنانے کی طاقت عطا فرما۔"

● اگر آپ میڈیا کارکن ہیں، اور کسی حقیقت کے افشا کی خاطر، دشمن کی سائبر آرمی کی یلغار کا نشانہ بنے ہیں تو اگلا لفظ لکھنے سے پہلے پیج کو ترک کر دیں اور اللہ سے التجا کرکے کہہ دیں: "میرا قلم تیرے ہاتھ میں ہے، تو حق ہے اور حق اس جھوٹے لشکر سے زیادہ طاقتور اور غالب و برتر ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: نرجس سادات موسوی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110


[1]۔ سورہ طہ، آیت 68۔

[2]۔ [اللہ نے] فرمایا: ڈرو نہیں۔ میں تم دونوں کے ساتھ ہوں، [میں سب کچھ] سنتا ہوں اور دیکھتا ہوں۔ (سورہ طہ، آیت 46۔)

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha